Monday, October 5, 2026

Dialogue painting poetry and music


 Painting Poetry and Music 

2 Oct 26.


مصوری موسیقی اور شاعری کا مکالمہ


یہاں دو پینٹنگز دو اشعار کے ساتھ ہمارے سامنے ہیں۔ بائیں جانب ایک تصویر ہے اور دائیں جانب دوسری۔ دونوں میں ایک انسان بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، مگر دونوں کا زمانہ، دونوں کا ملک اور دونوں کا انداز جدا ہے۔ پھر بھی دیکھنے والا ایک لمحے کو رک جاتا ہے، کیونکہ بوجھ اٹھانے کا دکھ دونوں میں ایک جیسا ہے۔


بائیں جانب والی پینٹنگ یونانی اساطیر کے مشہور کردار سیسفس کی ہے۔ یہ شاہکار وینس کے عظیم مصور ٹیشن کا بنایا ہوا ہے، جو اس نے 1548-1549 میں تخلیق کیا تھا۔ آج یہ اصل پینٹنگ اسپین کے مشہور پراڈو میوزیم، میڈرڈ میں موجود ہے۔


اس کی کہانی یوں ہے کہ سیسفس ایک بہت چالاک بادشاہ تھا، اس نے موت کے دیوتا کو بھی دھوکہ دے دیا تھا۔ اس دھوکے کی سزا کے طور پر یونانی دیوتاؤں نے اسے یہ عذاب دیا کہ وہ ایک بھاری پتھر کو پہاڑ کی چوٹی تک لے جائے، اور جیسے ہی وہ اوپر پہنچے پتھر دوبارہ نیچے لڑھک جائے۔ یہ عمل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاری رہے گا۔


ٹیشن نے سیسفس کے جسم کو مائیکل اینجلو کے انداز میں بہت طاقتور اور تکلیف میں دکھایا ہے۔ اندھیرا پس منظر، نیچے دوزخ کا ماحول اور کندھوں پر دھرا بھاری پتھر، یہ سب انسان کی لامتناہی جدوجہد، بے بسی اور محنت کی علامت بن جاتے ہیں۔


بعد میں فلسفی البرٹ کامیو نے اسی کہانی پر لکھا تھا کہ ہمیں سیسفس کو خوش تصور کرنا چاہیے۔ یعنی بے معنی لگنے والی محنت میں بھی انسان اپنے معنی خود تلاش کر لیتا ہے۔


جبکہ پینٹنگ میں موجود کیفیت کو ہم میر تقی میر کے اس شعر میں بھی دیکھ سکتے ہیں


عشق اک میر بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے


میر عشق کو سیسفس کے اسی بھاری پتھر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ خود سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ یہ بوجھ تیرے جیسے ناتواں سے نہیں اٹھے گا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سیسفس کو یہ سزا دی گئی تھی، جبکہ عاشق یہ پتھر خود اپنے دل پر رکھ لیتا ہے۔

اسی غزل کو ایک عظیم فنکار مہدی حسن صاحب نے اپنے موسیقی سے ترتیب دی ہوئی غزل میں بھی میر کے جذبات کو درجہ کمال پر بیان کرتے ہوئے گایا ہے ۔ 


اب ذرا دائیں جانب والی تصویر دیکھیے۔ یہ ہمارے اپنے عظیم فنکار صادقین کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ ان کی مشہور غالب سیریز کا حصہ ہے۔ اس پر مرزا غالب کا یہ شعر درج ہے


گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار

لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا


غالب کی اس غزل کو بھی مہدی حسن صاحب نے اسے اپنی موسیقی کی زبان میں ادا کیا ہے ۔ 


جبکہ اس پینٹنگ کے بارے میں صادقین صاحب کے بھتیجے اور ان کے فن کی نگہداشت کرنے والے سلطان احمد صاحب یوں فرماتے ہیں۔ ان کی گفتگو یہاں پیش کی جا رہی ہے۔


السلام علیکم شاہد صاحب۔ ابھی واٹس ایپ گروپ دیکھ رہا تھا تو آپ کی پوسٹ کردہ ٹیشن کی مصوری اور اس کی تفصیلات نظر سے گزریں۔ اسے دیکھتے ہی مجھے چچا جان یعنی صادقین صاحب کا بنایا ہوا ایک شاہکار یاد آ گیا، جس کا موضوع اور اسلوب اس سے بے حد ملتا جلتا ہے، اگرچہ دونوں کی تشریح میں فرق ہے۔


مصوری میں ستم ہائے روزگار کی عکاسی وزنی پتھر، ہتھوڑے اور کدال جیسے اوزاروں سے کی گئی ہے، جو دراصل تیشے کے اسی مفہوم سے جا ملتے ہیں جس کا ذکر غالب نے اپنے اس شعر میں بھی کیا ہے


تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد

سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا


تصویر میں دکھایا گیا بھاری پتھر مصائب روزگار کی علامت ہے، جبکہ ایک گوشے میں کھلا ہوا چھوٹا سا پھول محبوب کے خیال کی علامت ہے۔ یعنی حالات کی تمام سختیوں کے باوجود محبوب کی یاد دل میں پھول کی طرح تروتازہ رہتی ہے۔


فنکار چاہے شاعر ہو، نغمہ نگار ہو یا مصور، بنیادی احساسات سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں، صرف اظہار کا انداز ایک فنکار کو دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ غالب نے بھی یہی کہا تھا


ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور


اسی بات کو سیف الدین سیف نے بھی خوب کہا ہے


سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں


یہ محض میرا ایک زاویہ نظر ہے۔ اگر مناسب سمجھیں تو تصحیح کے بعد گروپ میں شیئر کر سکتے ہیں۔


طالب دعا، سلطان احمد


تو دوستو، دیکھیے یہ کتنی خوبصورت بات ہے۔ تمام فنون انسان کی مختلف حسوں کی طرح ہم پر اثر ڈالنے کے لیے الگ الگ راستے اپناتے ہیں، مگر کہیں کوئی چھٹی یا ساتویں حس ایسی بھی ہے جہاں یہ سب فن ایک ہو جاتے ہیں۔ ہم انہیں پھر آپس کے امتزاج کے ساتھ برتتے اور سمجھتے ہیں۔


ٹیشن کا سیسفس ہو یا صادقین کا مزدور، میر کا بھاری پتھر ہو یا غالب کا ستم ہائے روزگار،

یا پھر موسیقی میں گائی ہوئی بات ، 

سب میں بات ایک ہی ہے۔ انسان بوجھ اٹھاتا ہے، تھکتا ہے، گرتا ہے، پھر اٹھتا ہے اسے کسی نہ کسی طور اظہار کرتا ہے اور اسی اظہار کے اٹھنے میں اس کی عظمت ہے۔


شاہد حسین

2 اکتوبر 2026

No comments: