Monday, October 5, 2026

Dialogue painting poetry and music


 Painting Poetry and Music 

2 Oct 26.


مصوری موسیقی اور شاعری کا مکالمہ


یہاں دو پینٹنگز دو اشعار کے ساتھ ہمارے سامنے ہیں۔ بائیں جانب ایک تصویر ہے اور دائیں جانب دوسری۔ دونوں میں ایک انسان بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے ہے، مگر دونوں کا زمانہ، دونوں کا ملک اور دونوں کا انداز جدا ہے۔ پھر بھی دیکھنے والا ایک لمحے کو رک جاتا ہے، کیونکہ بوجھ اٹھانے کا دکھ دونوں میں ایک جیسا ہے۔


بائیں جانب والی پینٹنگ یونانی اساطیر کے مشہور کردار سیسفس کی ہے۔ یہ شاہکار وینس کے عظیم مصور ٹیشن کا بنایا ہوا ہے، جو اس نے 1548-1549 میں تخلیق کیا تھا۔ آج یہ اصل پینٹنگ اسپین کے مشہور پراڈو میوزیم، میڈرڈ میں موجود ہے۔


اس کی کہانی یوں ہے کہ سیسفس ایک بہت چالاک بادشاہ تھا، اس نے موت کے دیوتا کو بھی دھوکہ دے دیا تھا۔ اس دھوکے کی سزا کے طور پر یونانی دیوتاؤں نے اسے یہ عذاب دیا کہ وہ ایک بھاری پتھر کو پہاڑ کی چوٹی تک لے جائے، اور جیسے ہی وہ اوپر پہنچے پتھر دوبارہ نیچے لڑھک جائے۔ یہ عمل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاری رہے گا۔


ٹیشن نے سیسفس کے جسم کو مائیکل اینجلو کے انداز میں بہت طاقتور اور تکلیف میں دکھایا ہے۔ اندھیرا پس منظر، نیچے دوزخ کا ماحول اور کندھوں پر دھرا بھاری پتھر، یہ سب انسان کی لامتناہی جدوجہد، بے بسی اور محنت کی علامت بن جاتے ہیں۔


بعد میں فلسفی البرٹ کامیو نے اسی کہانی پر لکھا تھا کہ ہمیں سیسفس کو خوش تصور کرنا چاہیے۔ یعنی بے معنی لگنے والی محنت میں بھی انسان اپنے معنی خود تلاش کر لیتا ہے۔


جبکہ پینٹنگ میں موجود کیفیت کو ہم میر تقی میر کے اس شعر میں بھی دیکھ سکتے ہیں


عشق اک میر بھاری پتھر ہے

کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے


میر عشق کو سیسفس کے اسی بھاری پتھر سے تشبیہ دیتے ہیں۔ وہ خود سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ یہ بوجھ تیرے جیسے ناتواں سے نہیں اٹھے گا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ سیسفس کو یہ سزا دی گئی تھی، جبکہ عاشق یہ پتھر خود اپنے دل پر رکھ لیتا ہے۔

اسی غزل کو ایک عظیم فنکار مہدی حسن صاحب نے اپنے موسیقی سے ترتیب دی ہوئی غزل میں بھی میر کے جذبات کو درجہ کمال پر بیان کرتے ہوئے گایا ہے ۔ 


اب ذرا دائیں جانب والی تصویر دیکھیے۔ یہ ہمارے اپنے عظیم فنکار صادقین کی بنائی ہوئی ہے۔ یہ ان کی مشہور غالب سیریز کا حصہ ہے۔ اس پر مرزا غالب کا یہ شعر درج ہے


گو میں رہا رہین ستم ہائے روزگار

لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا


غالب کی اس غزل کو بھی مہدی حسن صاحب نے اسے اپنی موسیقی کی زبان میں ادا کیا ہے ۔ 


جبکہ اس پینٹنگ کے بارے میں صادقین صاحب کے بھتیجے اور ان کے فن کی نگہداشت کرنے والے سلطان احمد صاحب یوں فرماتے ہیں۔ ان کی گفتگو یہاں پیش کی جا رہی ہے۔


السلام علیکم شاہد صاحب۔ ابھی واٹس ایپ گروپ دیکھ رہا تھا تو آپ کی پوسٹ کردہ ٹیشن کی مصوری اور اس کی تفصیلات نظر سے گزریں۔ اسے دیکھتے ہی مجھے چچا جان یعنی صادقین صاحب کا بنایا ہوا ایک شاہکار یاد آ گیا، جس کا موضوع اور اسلوب اس سے بے حد ملتا جلتا ہے، اگرچہ دونوں کی تشریح میں فرق ہے۔


مصوری میں ستم ہائے روزگار کی عکاسی وزنی پتھر، ہتھوڑے اور کدال جیسے اوزاروں سے کی گئی ہے، جو دراصل تیشے کے اسی مفہوم سے جا ملتے ہیں جس کا ذکر غالب نے اپنے اس شعر میں بھی کیا ہے


تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد

سرگشتہ خمار رسوم و قیود تھا


تصویر میں دکھایا گیا بھاری پتھر مصائب روزگار کی علامت ہے، جبکہ ایک گوشے میں کھلا ہوا چھوٹا سا پھول محبوب کے خیال کی علامت ہے۔ یعنی حالات کی تمام سختیوں کے باوجود محبوب کی یاد دل میں پھول کی طرح تروتازہ رہتی ہے۔


فنکار چاہے شاعر ہو، نغمہ نگار ہو یا مصور، بنیادی احساسات سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں، صرف اظہار کا انداز ایک فنکار کو دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ غالب نے بھی یہی کہا تھا


ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور


اسی بات کو سیف الدین سیف نے بھی خوب کہا ہے


سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے

ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں


یہ محض میرا ایک زاویہ نظر ہے۔ اگر مناسب سمجھیں تو تصحیح کے بعد گروپ میں شیئر کر سکتے ہیں۔


طالب دعا، سلطان احمد


تو دوستو، دیکھیے یہ کتنی خوبصورت بات ہے۔ تمام فنون انسان کی مختلف حسوں کی طرح ہم پر اثر ڈالنے کے لیے الگ الگ راستے اپناتے ہیں، مگر کہیں کوئی چھٹی یا ساتویں حس ایسی بھی ہے جہاں یہ سب فن ایک ہو جاتے ہیں۔ ہم انہیں پھر آپس کے امتزاج کے ساتھ برتتے اور سمجھتے ہیں۔


ٹیشن کا سیسفس ہو یا صادقین کا مزدور، میر کا بھاری پتھر ہو یا غالب کا ستم ہائے روزگار،

یا پھر موسیقی میں گائی ہوئی بات ، 

سب میں بات ایک ہی ہے۔ انسان بوجھ اٹھاتا ہے، تھکتا ہے، گرتا ہے، پھر اٹھتا ہے اسے کسی نہ کسی طور اظہار کرتا ہے اور اسی اظہار کے اٹھنے میں اس کی عظمت ہے۔


شاہد حسین

2 اکتوبر 2026

Nuremberg Chronicle

 


Nuremberg Chronicle 1493.


وہ کتاب جو دنیا کو اپنے اندر سمولے ہوئے تھی: نورمبرگ کی تواریخ، گوئتھک دور کے آخری سنگم کی گواہ .

تحریر:

 Luis Felipe Valdez 

(اردو ترجمہ و اضافہ شاہد حسین اے آئی کی مدد سے)


نورمبرگ کی تواریخ کو ہم آخری گوئتھک دور 

(Late Gothic) 

کی عظیم ترین کتابوں میں سے ایک کہہ سکتے ہیں، اور یہی اس کی سب سے درست پہچان ہے۔ یہ کتاب گوئتھک اور نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے سنگم پر کھڑی ہے، گویا گوئتھک دور کی آخری عظیم تصنیف جو نشاۃ ثانیہ کے دروازے پر کھڑی ہو کر پیچھے مڑ کر دیکھ رہی ہے۔ اس کا زمانہ (1493)، اس کا فن، اور اس کی سوچ تینوں اسے گوئتھک دور سے جوڑتے ہیں، جبکہ چھاپہ خانے کی ٹیکنالوجی اور انسانی تجسس اسے نئے دور سے ملاتے ہیں۔


تصور کیجیے ایک ایسی کتاب جو اینٹ جتنی بھاری ہو، جس کی اونچائی تقریباً آدھا میٹر ہو، اور جسے کھولتے ہی آپ کی آنکھوں کے سامنے صرف الفاظ نہیں بلکہ لکڑی پر چھینی سے تراش کر بنائی گئی تصویروں میں ایک پوری کائنات کھل جائے۔ ایک ایسی جلد جو تخلیق کے پہلے دن سے لے کر قیامت تک پوری انسانی تاریخ کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہو، جس میں بادشاہ، پیغمبر، دور دراز زمینوں کے عجیب الخلقت اور ایسے شہر ہوں جن کا کبھی وجود ہی نہیں تھا جیسا انہیں تصور کیا گیا تھا۔ ایسی کتاب واقعی موجود ہے، اس کا نام ہے نورمبرگ کی تواریخ اور یہ 1493 میں چھپی تھی، جب چھاپہ خانہ ابھی اپنی ابتدائی زبان بولنا سیکھ رہا تھا اور پھر بھی اتنی عظیم الشان تصنیف پیش کرنے کے قابل ہو چکا تھا کہ آج بھی اسے ہاتھ میں تھامنے والا حیران رہ جاتا ہے۔


یہ کوئی عام پرانی تاریخ نہیں اور نہ صرف قدیم اشیاء جمع کرنے والوں کی شے ہے، بلکہ وقت کا ایک خزانہ ہے جو اس یورپ کی ذہنیت کو قید کیے ہوئے ہے جو قرون وسطیٰ کو الوداع کہہ رہا تھا اور ڈر اور تجسس کے ساتھ ایک نئی دنیا میں جھانک رہا تھا۔ اس کے صفحات، جو ایک ہزار آٹھ سو سے زیادہ لکڑی پر تراشی گئی تصویروں سے مزین ہیں، ہمیں ایمان، خوف، حیرت اور انسان کی اس ناقابل تسکین پیاس کی کہانی سناتے ہیں کہ وہ بیان کرے اور خود کو سمجھے۔


نورمبرگ کی تواریخ، جس کا اصل لاطینی نام

 Liber Chronicarum 

ہے اور جرمن میں اسے

 Die Schedelsche Weltchronik

 کہا جاتا ہے، پندرہویں صدی کے سب سے غیر معمولی ابتدائی مطبوعات میں سے ایک ہے۔ یہ 1493 میں چھپی، یعنی جدید چھاپہ خانے کی ایجاد کے صرف چالیس سال بعد۔ یہ کتاب بیک وقت دو زبانوں میں تیار کی گئی: ایک لاطینی میں جو 12 جون 1493 کو چھپی، اور دوسری جرمن میں جو 23 دسمبر کو چھپی۔ اس دوہری اشاعت نے کتاب کو پورے یورپ میں پھیلنے میں مدد دی۔


اس عظیم منصوبے کی بنیاد سیبالڈ شرائر اور اس کے بہنوئی سیباسٹین کامرمائسٹر نے رکھی۔ اس کام کے لیے انہیں آنٹون کوبرگر سے رجوع کرنا پڑا، جس کا چھاپہ خانہ اس وقت کا سب سے بڑا تھا۔ لاطینی متن کی تالیف نورمبرگ کے طبیب ہارٹمن شیڈل نے کی، اور گیورگ آلٹ نے اس کا جرمن میں ترجمہ کیا۔ تصویروں کی ذمہ داری مائیکل وولگے موٹ اور ان کے داماد ولہیلم پلائیڈن ورف کے سپرد تھی۔ وولگے موٹ مشہور مصور تھے اور البرشت ڈیورر کے استاد بھی تھے۔ ڈیورر کا بطور شاگرد اسی کارخانے میں موجود ہونا اس کتاب کو مزید وقار بخشتا ہے۔


نتیجہ تقریباً چھ سو صفحات پر مشتمل ایک کتاب تھی، تقریباً 44 ضرب 67 سینٹی میٹر سائز میں، جو 1804 لکڑی پر تراشی گئی تصویروں سے مزین تھی۔ ان تصویروں کے لیے صرف 652 تختیاں تراشی گئیں، کیونکہ بہت سی تصویریں بار بار استعمال ہوئیں۔ اس زمانے میں کئی بار تصویر کا مقصد قاری کی توجہ بڑھانا بھی تھا، اور یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا تھا کہ وہ مخصوص متن کی عکاسی کرے۔


اس کتاب کا فن خالص گوئتھک ہے۔ لکڑی پر تراشی گئی تصویروں کا انداز، حروف کی بناوٹ، اور مذہبی موضوعات سب گوئتھک فن کی پہچان ہیں۔ اسی طرح اس کی سوچ و فکر بھی گوئتھک ہے: تاریخ کو سات ادوار میں بانٹنا، قیامت کا خوف، عجیب الخلقت قوموں پر یقین، اور نامعلوم دنیا کا ڈر، یہ سب قرون وسطیٰ کے اندازِ فکر کی عکاسی کرتے ہیں۔


کتاب کا مواد تخلیق سے لے کر 1492 تک انسانی تاریخ کی تصویری داستان ہے۔ یہ تاریخ کو چھ ادوار میں تقسیم کرتی ہے اور ساتواں دور قیامت کا ہے۔ پہلا دور تخلیق سے طوفان نوح تک، دوسرا نوح سے ابراہیم تک، تیسرا ابراہیم سے داؤد تک، چوتھا داؤد سے بابل کی جلاوطنی تک، پانچواں بابل سے مسیح کی پیدائش تک، چھٹا مسیح کی پیدائش سے 1492 تک، اور ساتواں دنیا کے خاتمے اور قیامت کا منظر۔


کتاب کے دیباچے میں تخلیق کا دن بہ دن بیان ہے۔ ساتویں دن کی تصویر میں مسیحی کائنات دکھائی گئی ہے جس میں افلاطون کے چار عناصر کا نظریہ بھی شامل ہے۔ زمین مرکز میں ہے، بطلیموسی نظام کے مطابق، اس کے گرد پانی، ہوا اور آگ کے دائرے ہیں، پھر سیاروں کے دائرے اور آخر میں ستارے۔ کل دس دائرے ہیں جن کے گرد فرشتوں کا حلقہ ہے۔


کتاب کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا عالمی نقشہ ہے، جس کے حاشیے میں دنیا کے انتہائی کناروں پر رہنے والی عجیب الخلقت قوموں کی تصویریں ہیں: بہت سے بازوؤں والے انسان، چھ انگلیوں والا، قنطورس، چار آنکھوں والا، دو جنسی خصوصیات والا انسان، لمبی گردن اور چونچ والا انسان۔ اس زمانے میں ان مخلوقات کے وجود پر واقعی یقین کیا جاتا تھا۔ یہ انسان کے نامعلوم کے خوف کا اظہار تھیں، بالکل ویسے ہی جیسے اس دور کے نقشوں پر لکھا ہوتا تھا: "Hic Sunt Dracones" یعنی "یہاں اژدھے ہیں"۔


اپنی مہنگی قیمت کے باوجود یہ کتاب اپنے زمانے کی بیسٹ سیلر تھی۔ غیر جلد بند نسخہ ساڑھے تین فلورن اور جلد بند رنگین نسخہ آٹھ فلورن کا تھا۔ اندازہ ہے کہ لاطینی کے 1400 سے 1500 اور جرمن کے 700 سے 1000 نسخے چھپے تھے۔ آج تقریباً 400 لاطینی اور 300 جرمن نسخے باقی ہیں، جو دنیا بھر کے عجائب گھروں اور کتب خانوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔


اپنے 600 صفحات میں 1800 سے زیادہ تصویروں کے ساتھ یہ پندرہویں صدی کی سب سے زیادہ تصویروں والی کتاب ہے۔ اس میں جرمنی کے ابتدائی چھپے ہوئے نقشوں میں سے ایک اور یروشلم کی قدیم ترین چھپی ہوئی تصویر شامل ہے۔ ناشر آنٹون کوبرگر نے کتاب کے ساتھ لکھا تھا:

 "جا کتاب، جا اور جہاں ہوا آزاد بہتی ہے وہاں پہچانی جا۔ تجھ جیسی کوئی چیز پہلے کبھی نہیں چھپی۔ ہزاروں ہاتھ تجھے شوق سے تھامیں گے اور بڑی توجہ سے پڑھیں گے۔"


یہی وجہ ہے کہ نورمبرگ کی تواریخ صرف ایک کتاب نہیں، بلکہ گوئتھک دور کے خاتمے کی گواہ ہے، ایک ایسا زندہ وجود جو اپنے ہر صفحے میں تاریخ، فن اور اسرار کی سانسیں لیتا ہے۔


5 اکتوبر 2026

Wednesday, September 30, 2026

دکھ کے دو راستے

 



Shahid Hussain 

29 Sep 26.

دو جینئیس، دو راستے: 


یہ مضمون آپ دوستوں سے شیئر کرنے سے پہلے ایک اعتراف ضروری ہے۔

دو شخصیات کے درمیان یہ موازنہ کسی سائنسی تحقیق کی طرح نہیں، بلکہ ایک ادبی استعارے کے انداز میں کیا گیا ہے، جس میں سب سے اہم مشترک عنصر انسانی دکھ ہے ۔

دکھ ایک مشترک موضوع، دو مختلف برتاؤ


اوشو بھگوان شری رجنیش (1931 تا 1990) اور ساغر صدیقی (1928 تا 1974)، دونوں کی زندگی کا مرکزی موضوع انسانی دکھ تھا۔ دونوں کو ان کے ماننے والوں نے جینئیس مانا، مگر دکھ کے ساتھ ان دونوں شخصیات کا برتاؤ یکسر مختلف تھا۔


رجنیش نے دکھ سے نجات کا فلسفہ دیا۔ ان کا پیغام تھا کہ انسان شعور اور خوشی کے ذریعے اپنے دکھوں سے آزاد ہو سکتا ہے۔ ان کی باتوں میں انسانی نفسیات، عقائد اور سماجی بندشوں پر گہری تنقید تھی، اور ان کے اقوال آج بھی پڑھے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک غیر معمولی ذہن تھے۔


ساغر صدیقی نے دکھ سے نجات کا کوئی نسخہ نہیں دیا۔ انہوں نے دکھ کو جیا، اسے اپنی ذات پر محسوس کیا، اور اسے غزلوں میں ڈھال دیا۔ ان کی شاعری دکھ کا بے مثال اظہار ہے، اس لیے نہیں کہ انہوں نے دکھ کا "حل" بتایا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے ایسے دکھ کو سچ بولنے دیا جو کہیں نہ کہیں انسانوں کا مشترکہ ورثہ بھی ہے۔


اب یہاں ایک تضاد ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ رجنیش نے لوگوں کو ان کی کامیاب دنیاوی زندگیاں تیاگ کر روحانی آزادی کی طرف بلایا، مگر ان کی اپنی زندگی میں 90 سے زائد رولز رائس گاڑیاں، قیمتی گھڑیاں اور شاہانہ آسائشیں شامل تھیں۔ یہ دولت زیادہ تر ان کے مداحوں کے تحفوں سے آئی، یہ سچ ہے، مگر سوال پھر بھی رہتا ہے: جو دوسروں کو دنیاوی کامیابیاں چھوڑنے کی تلقین کرے، کیا اسے خود بھی اسی سادگی کی مثال نہیں بننا چاہیے؟


ہو سکتا ہے ان کے مداح کہیں کہ رجنیش کا درس فقیری کا تھا ہی نہیں، بلکہ شعوری زندگی کا تھا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، مگر پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ شعور کا یہ راستہ خود ان کے لیے آسائشوں سے ہو کر کیوں گزرا، اور ان کے پیروکاروں کے لیے قربانیوں سے؟


اور "بھگوان" کا لقب؟ رجنیش نے روایتی مذہب کا انکار کیا، مگر "بھگوان شری رجنیش" کا عنوان قبول کیا۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر ان کے مداح بھی خاموش رہتے ہیں۔


دوسری طرف ساغر کی فقیری کو صرف "فلسفیانہ انتخاب" کہنا بھی پورا سچ نہیں۔ ان کی زندگی میں غربت، بیماری اور ذہنی و جسمانی ٹوٹ پھوٹ کا بھی کردار تھا۔ وہ لاہور کی گلیوں میں اس لیے بھی تھے کہ دنیا نے انہیں کہیں اور جگہ نہیں دی تھی۔ لیکن ان کی عظمت اس میں ہے کہ انہوں نے اس ٹوٹ پھوٹ کو شاعری میں بدل دیا، نہ کہ اس میں کہ انہوں نے جان بوجھ کر دکھ چنا تھا۔


ان دونوں اصحاب کی عمر کے حساب اور راستے کے انتخاب کو دیکھا جائے تو ساغر نے 46 برس پائے، رجنیش نے 58۔ ایک نے دکھ کو گلے لگایا، دوسرے نے دکھ سے نجات کا راستہ بتایا، لیکن زندگی کے دورانیے کا فرق بہت معمولی ہے۔ تو پھر خوشی کا راستہ اختیار کر کے طویل زندگی پانے میں فرق کہاں ہے؟


شاید فرق صرف اتنا ہے کہ ہم سب نے اپنی اپنی مرضی کا راستہ چننا ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم یہ راستہ ذہانت یا حماقت کی بنیاد پر چنیں، یا صحیح اور غلط کی بنیاد پر چنیں۔ بس ہمیں اپنے اپنے مزاج کے مطابق، جینئیس ہونے کے باوجود، کوئی ایک راستہ چننا ہوتا ہے۔


مجھے میرے دوست اکثر ماضی کا پجاری، یا یوں سمجھیے "ماضی کے مزار کا مجاور" کہتے ہیں۔ شاید یہ سچ ہے۔

مگر میں تو انہیں کبھی "حال کا اوتار" بننے پر قابلِ تنقید نہیں سمجھتا، گو کہ میں اس فرق کو اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ اوتار یاد رکھے جاتے ہیں، مجاور نہیں۔


ساغر صدیقی کو آج کم لوگ جانتے ہیں، رجنیش کو زیادہ۔ اس کی وجوہات بہت سی ہو سکتی ہیں: رجنیش انگریزی میں بولتے تھے، اور وہ باتیں بولتے تھے جو دنیا سننا چاہتی ہے۔ عالمی میڈیا تک ان کی رسائی تھی، ان کے پیچھے ایک منظم تحریک تھی۔ ساغر اردو کے شاعر تھے، ان کی دنیا لاہور کی گلیاں تھیں، ان کے پیچھے کوئی ادارہ نہیں تھا۔ ان کا موضوع سہنے والے تو بہت تھے، سننے والے کم تھے۔


تو شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اسے یاد رکھتے ہیں جو ہمیں نجات کا وعدہ دے، اور اسے بھول جاتے ہیں جو ہمیں دکھ سہنے کا سچ دکھائے۔ میں مزار کا مجاور سہی، مگر میں ان مزاروں پر چراغ جلاتا رہوں گا جہاں سچ دفن ہے، چاہے وہ سچ میرے لیے کتنا ہی اداس کیوں نہ ہو۔

لیکن اگر یہ دکھ اور اداسی میرے دوستوں کو کسی ٹوٹ پھوٹ سے دوچار کرتی ہے تو پھر میں ان کے لیے یہ گیت گا دوں گا ،

"تمہیں زندگی کے اجالے مبارک 

اندھیرے ہمیں آج راس آگئے ہیں"


شاہد حسین

29 ستمبر 2026

Monday, December 1, 2025

Colored Library


 کراچی کھوڑی گارڈن اصل میں وکٹورین دور کا ایک چھوٹا سا باغیچہ تھا جو ایک وقت تک کتاب دوست آرٹسٹوں کی جنت رھا ۔ ۔ ۔ 

باغیچہ تو خوبصورت تھا ہی لیکن خاص طور پر اس لیے کہ اس کے مرکزی گیٹ کے باہری اطراف کتاب مارکیٹ تھی جہاں دنیا بھر کی بڑی بڑی بک پبلشنگ کمپنیز کی کباڑ کہنا تو مناسب نہیں لیکن کچھ پرانی کتابیں بہت بڑے بڑے لاٹ کی شکل یا محدود تعداد میں آتی تھیں ،

جن میں پرنٹنگ، مسنگ پیجز یا بائنڈنگ کے کچھ معمولی سے مسائل ہوتے یا پھر وہ بالکل ٹھیک حالت میں ہونے کے باوجود وہاں آ جاتی تھیں ۔

جو دوست لائٹ ہاؤس سے لے کر بولٹن مارکیٹ اور ٹاور تک کے علاقے کو جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ یہ کس قدر پر ہجوم انتہائی شور شرابے سے بھرپور گنجان علاقہ ہے ۔

مگر اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دنیا کے ہر قسم کے مٹیریل کی مارکیٹ ہے جس میں آرٹ مٹیریل بھی شامل ہے 

جسے لینے کے لیے آرٹسٹوں کو یہاں جانا ہی پڑتا ہے لیکن جس قدر ہم خوشی خوشی وہاں جایا کرتے تھے اس کی اہم وجہ یہ کتابوں کا مرکز ہوتا تھا جہاں ایسی ایسی نایاب کتابیں مناسب قیمت میں ہاتھ لگتیں کہ جیسے مچھلی پکڑنے والوں کے ہاتھ توقع سے بڑی مچھلی لگتی ہے ۔

دکاندار گو کہ بہت گھاگ ہو چکے تھے اور وہ اس دور میں بھی منہ پھاڑ کر قیمت مانگتے تھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتاب کے قدردان آرٹسٹ بس پریشان سا منہ بنا کے قیمت کم تو کرواتے مگر دل میں پھوٹتے لڈو کے ساتھ کتابیں لے کر گھر کو آتے ۔


شاید یہ 2005 کی بات ہے جب یہاں  ایسا لاٹ آیا جس میں ایک سیریز کا نام تھا،

Colored Library,

یہ مختلف ازمز اور آرٹسٹوں پر تقریباً چالیس نمبروں کا سلسلہ تھا ،

اور ایک وقت میں یہ تمام نمبر دستیاب تھے ،

اور میں نے بس دیکھا اور دیکھتے ہی انہیں خرید لیا،

اتفاق سے انہی دنوں میرے والد کے ایک آرٹسٹ دوست  گھر تشریف لائے تو انہیں یہ بے حد پسند آئیں ۔ ۔ انہوں نے کہا کہ شاید بیٹا جب بھی جاؤ تو یہ ایک سیٹ میرے لیے بھی لے آنا میں نے اسی وقت  انہیں یہ تمام نمبرز تحفے میں دے دیئے،

لیکن جب دوبارہ میں اپنے لیے خریدنے گیا تو پھر مجھے یہ مکمل 40 والیم نہ ملے بلکہ 36 ملے ۔

لیکن یہ چھتیس بھی بہت تھے ۔

ان کے شروع میں آرٹسٹ کی لائف اس کے کام پر کچھ تبصرہ اور پھر آگے ہر ایک پیج پر پینٹنگ اور دوسری طرف اس پینٹنگ کے بارے تھوڑی سی ڈسکرپشن تھی اور یہ اس انداز سے تھی کہ پیج پر کافی اسپیس خالی بھی تھی ، میں نے اس میں چند کتابوں کے  خالی حصوں پر بال پوائنٹ سے ان کے تراجم بھی لکھے ،

کچھ دوست جب ان کتابوں میں اس ترجمے کو دیکھتے تو بہت حیران ہوتے کہ یہ کس کمپنی نے شائع کی ہیں جس نے ساتھ اردو ترجمہ بھی شائع کیا ہے ؟

جب میں انہیں بتاتا کہ یہ میں نے خود ہاتھ سے لکھا ہے تو وہ بہت حیران ہوتے ۔

ٹھیک ہے آج کچھ دوست جو میرے اس شوق اور جنون کو ٹھرک کا نام دیتے ہیں تو وہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں کرتے ورنہ ایسی دیوانگی کو با مقصد ہونے میں اور کیا نام دیا جا سکتا ہے ؟

Colored Library,

کہ یہ بک سیریز ہی اپنے مختلف خوشنما رنگوں میں  آج تک میرے پاس محفوظ نہیں بلکہ نہ جانے اس کتاب گلی کی کتنی خوبصورت اور رنگین یادیں آج بھی خیالوں کا حصہ ہیں 

جو اکثر کسی خواب کی صورت میں اپنا آپ ضرور دہراتی رہتی ہیں ،

نہ جانے کتنی بار خواب میں خود کو اسی کتاب گلی میں پاتا ہوں ، کسی گمشدہ جنت کی خواہش کی طرح ۔ ۔ 

اور کوئی جانا پہچانا دکاندار مجھے کہہ رہا ہوتا ہے لیجیے صاحب نئی کتاب آئی ہے تمام بک گئی یہ ایک آپ کے لیے سنبھال کے رکھی ہوئی تھی ۔


شاہد حسین 

30 نومبر 25

Saturday, November 29, 2025

Abdali to Angries


 برصغیر کی تعمیرات پر دیگر خطوں سے حملہ آور ہونے والوں کے اثرات ۔


احمد شاہ ابدالی،

1748 سے 1772 تک 25 سالہ مدت میں افغانستان سے بر صغیر پر تقریباً سات سے آٹھ بار حملہ آور ہوا،

اور یہ 25 سالہ دورانیہ ہی اس کا برصغیر پر اقتدار کا دور بھی ہے ۔

کیونکہ اس کا مقصد یہاں اپنے اقتدار کو طوالت دینا نہیں بلکہ ایسی عسکری مہمات تھیں جن کے بنیادی اغراض و مقاصد خطے پر افغان تسلط اثر رسوخ اور مالی مفادات حاصل کرنا تھا ۔

اپنے 25 سالہ دور میں اس نے بر صغیر کے خطے کے لیے کیا تعمیری سرگرمیاں سرانجام دیں ان کا تعلق زیادہ تر اس کے مالی مفادات سے ہی جڑا ہے جیسے کہ ٹیکس کا سخت نظام ، اور سماجی حوالے سے بیوہ عورتوں کی شادی سے متعلق قوانین ہیں ۔

جبکہ متحدہ ہندوستان میں اس کی تعمیرات کوئی خاص مثالیں نہیں ملتی لیکن ہندوستان سے 

حاصل کی گئی دولت سے کابل کے گرد وال سٹی بنوائی گئی اور قندھار میں احمد شاہی نام سے ایک نیا شہر بنایا گیا ۔

لیکن بر صغیر میں موجود دولت کے حصول کے لیے تعمیرات کو نقصان ضرور پہنچایا گیا جن میں خاص طور پر دہلی کے لال قلعے کے ایک حصے میں بنی چھت میں استعمال ہونے والے سونے کو نکلوا کر بھی پگھلوایا اور ابدالی نے اسے اپنے خزانے میں شامل کیا ۔

ٹھیک ٹھیک اعداد و شمار حاصل کرنا تو بہت مشکل ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق ابدالی نے اپنے 25 سالہ دور میں ہندوستان سے تقریبا 100 ٹن سے زائد سونا لوٹا ۔

مگر برصغیر کے اکثریتی مسلمان ابدالی کو ایک ہیرو کے طور پر مانتے ہیں گو کہ ابدالی نے اسلام کے پھیلاؤ میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا لیکن اس کے دور میں مسلمانوں کو ہندوؤں اور سکھوں کے مقابل ایک مزہبی سیاسی و زہنی برتری حاصل ہوئی ۔

بر صغیر میں احمد شاہ عبدالی کے دور میں ہی انگریز سرکار نے ہندوستان پر قبضہ جمانا شروع کیا مگر احمد شاہ عبدالی کی انگریز سرکار سے کوئی خاص براہ راست جنگ نہیں ہوئی اس کا زیادہ تر ہدف مرہٹے اور مغل تھے ۔


1757 سے 1857 تک ہندوستان پر ایک صدی انگریز کمپنی نے اور پھر 1857 کی آزادی کی جنگ کے بعد 1947 تک 90 سال براہ راست برٹش سرکار نے ہندوستان پر حکومت کی ،

190 سال کے کل دور حکومت میں انگریز نے برصغیر کو جو لوٹا اس کا اندازہ ٹھیک ٹھیک عددوں میں لگانا تو مشکل ہے لیکن کچھ قریب قریب تخمینہ لگایا جائے تو ،

190 سال میں 6400 ٹن سے زائد سونا لوٹا گیا ,

اب اس دولت کو اگر احمد شاہ ابدالی کے دور کی مدت اور مقدار سے 

موازنہ کیا جائے تو ایک اندازے کے مطابق ابدالی نے 25 سالہ دور اقتدار میں برصغیر سے ہر سال چار ٹن سونا لوٹا،

جبکہ انگریز سرکار نے 190 سالہ دور اقتدار میں ہر سال 34 ٹن سونا لوٹا ۔

اسی طرح اگر دونوں کے طرز حکومت میں ان کی یہاں سے حاصل کی گئی دولت کو خطے پر خرچ کرنے کے طور دیکھا جائے تو ،

ابدالی نے تمام تر حاصل شدہ دولت کا تقریباً 10 سے 15 فیصد جو بر صغیر پر خرچ کیا وہ صرف اور صرف اپنے عسکری انتظامی امور پر تھا ،

جبکہ انگریز سرکار نے جو 20 سے 25 فیصد خرچ کیا اس میں بھی گو کہ اپنے عسکری انتظامی امور پر ایک بڑا حصہ تھا مگر کہیں اقتدار کو طوالت دینے کے لیے انفراسٹرکچر پر اور اسی طرح عوام کو کچھ نہ کچھ شہری سہولتیں دینے جیسے امور پر بھی تھا جس میں تعلیم صحت ریلوے ، سڑکیں ذرائع آمدرفت ثقافتی سرگرمیاں اور فوجی و شہری تعمیرات تھیں ۔

جس کی وجہ سے اس خطے کی سماجی وہ ثقافتی تہذیب پر ان کے گہرے اثرات ثبت ہوئے ۔

لیکن اس خطے کی ایک بڑی مسلم اکثریت ابدالی کو اپنے مذہبی عقائد و جذبات کی بنا پر آزادی کا ہیرو جبکہ انگریز سرکار کو آقائی جبر و تسلط رکھنے والے سامراج کے طور دیکھتی اور یاد کرتی ہے ۔


شاہد حسین 

21 نومبر 25

عینک والا جن


 جی عاصم زبیری بھائی اور حفیظ طاہر صاحب بلا شبہ یہ عینک والا جن ایک وقت میں ہمارے بچوں پر بری طرح سے قابض تھا،

سچ کہا جائے تو ہم پر بھی 😍

 


یہ بات ٹھیک ہے کہ 

ہومر کی اوڈیسی نے داستانوں کے سفر کی شروعات میں اہم کردار ادا کیا 

لیکن پھر عرب ٹیلز ،

ہزار داستان، طلسم ہوش ربا ،حاتم طائی ، پھر بر صغیر میں قصہ چہار درویش اور دیگر بہت سی سینہ بہ سینہ چلنے والی داستانوں نے جہاں بچوں کی شعوری ترقی و اخلاقی تربیت میں بہت مضبوط کردار ادا کیا وہیں ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے میں بچوں کے کچھ رسائل وغیرہ کے ذریعے اور پھر اسی تسلسل میں پی ٹی وی نے بھی تفریحی وقت فراہم کرنے میں بہت اہم حصہ ادا کیا ۔ ۔ ۔ 


اور پھر ہم نے یہ تمام ذمہ داری کمپیوٹر ، موبائل فون اور اس پر دستیاب دیگر خطوں کے مٹیریل پر ڈال دی ۔


کیا اب آج کے بچے جادو کی نگری میں اڑتے گھوڑے قالین پریاں اور چڑیلوں کے قصے نہیں سننا چاہتے ؟

جی آج بھی مغرب میں یہ سب جاری و ساری ہے ہیری پوٹر بک سیریز کی ریکارڈ فروخت کوئی زیادہ پرانی بات نہیں ہے ، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر بچوں کی ایسی سیریز کا آج بھی ہجوم ہے ،

لیکن ہم نے اپنے بچوں کو بڑا کر دیا ہے ۔

اور سمجھ لیا ہے کہ انہیں اب اس قسم کی خرافات کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، لیکن کیا یہ سچ ہے ؟


شاہد حسین 

29 نومبر 25

کشمیر کی کلی


 کیا کہانیاں اور داستانیں صرف بچوں کے لیے ہوتی ہیں ؟


سچ تو یہ ہے کہ ہم بڑے بھی ہو جائیں تو قصے کہانیاں اور داستانیں ہمیں متاثر ضرور کرتی بس ہم اس میں سے تصورات کو کم کرتے ہوئے کچھ حقیقت کے قریب لانا شروع کر دیتے  ہیں جیسے کہ مجھے یاد ہے کہ تاریخ پڑھنا جو کہ کچھ لوگوں کے لیے خاصہ بورنگ سا موضوع ہوتا ہے لیکن برصغیر کے ایک بہت بڑے لکھاری الیاس سیتا پوری صاحب اس موضوع کو حقیقت اور تصور کے درمیان رکھتے ہوئے یا ایک بنت بنتے ہوئے ہمارے لیے بہت ہی دلچسپ بنا دیتے تھے ۔

اتفاق سے ان دنوں میری بیٹی میری لائبریری کی بہت سی کتابوں کو تصویری طور پر کمپائل کر رہی ہے ۔


جس میں ایک وقت میں میرے پاس الیاس سیتا پوری صاحب کی جو بہت سی کتابیں موجود تھیں مگر دوستوں کے مطالعے کے ذوق اور مہربانی نے انہیں سنبھالنے رکھنے کے جھنجھٹ میں مجھے کافی سہولت فراہم کر دی ہے 😄

تو اب شاید بہت کم ہیں ،اگر آپ کے مطالعے میں کبھی ان کی کتابیں  آئی ہوں تو یقیناً آپ نے ان میں تاریخ کے نہاں خانوں میں چھپی بہت سی کہانیوں کو کسی فلم کی طرح سے اپنے تصور میں دیکھا ہوگا ۔ 

 انہی داستانوں کو یاد کرتے ہوئے  الیاس سیتا پوری صاحب کی صاحبزادی ،زنوبیہ الیاس جو خوش قسمتی سے دوستوں میں شمار  ہیں انہیں بھی گروپ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے یقینا وہ اس حوالے سے کچھ اپنی یادداشتیں ہم سے ضرور شیئر کریں گیں ۔

 


شاہد حسین 

29 نومبر 25