Tuesday, October 13, 2026

کنکھجورا ہاؤس


 مکالمہ آغاز: 12 اپریل 2026، رات 01:22 بجے


Shahid Hussain:


کنکھجورا ہاؤس: ایک معمار کی شخصیت کا پرتو


تحریر: شاہد حسین


اعجاز ملک ایک ماہرِ تعمیرات ہیں، جو فرانس کے معروف ادارے ENSAD سے آرٹ، ڈیزائن اور ڈیکوریٹو آرٹس میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد طویل عرصے سے بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی، لاہور کے شعبۂ آرکیٹیکچر اور انٹیریئر ڈیزائن سے وابستہ ہیں۔


ان کا تعمیر کردہ گھر ’’کنکھجورا‘‘ بظاہر ایک رہائش گاہ ہے، مگر درحقیقت ایک تخلیقی مکالمہ ہے۔ ثقافتی روایت، سادگی اور وقار کے امتزاج سے جنم لینے والا یہ فن پارہ ان کی فکری اپروچ، حسِ جمال اور ایک معمار کی داخلی دنیا کا آئینہ دار ہے۔ یہ گھر اپنی ساخت اور روح، دونوں پہلوؤں سے کسی بین الاقوامی آرکیٹیکچرل جریدے کے صفحات میں جگہ پانے کا حق دار ہے۔


کئی لوگ جب اس گھر کی بیرونی اور اندرونی ساخت دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ اس گھر کا نام ’’کنکھجورا‘‘ کیوں رکھا گیا؟ اور آخر اس سادہ سے مکان میں ایسی کیا بات ہے جو اسے منفرد بناتی ہے؟


حقیقت میں، اس نام کی جڑیں اسی گھر کی بیرونی بناوٹ میں پوشیدہ ہیں۔ اس کے چند ڈیزائن عناصر پہلی نظر میں بے ترتیب، نامکمل یا غیر متوقع معلوم ہوتے ہیں۔ انہی سے مشابہت کے باعث اسے ’’کنکھجورا‘‘ کہا گیا۔


البتہ، اندر داخل ہوں تو اس کی گزرگاہوں، مہمانوں کے بیٹھنے کی جگہوں سے لے کر مکینوں کے ذاتی استعمال کے مقامات تک، ایک مکمل توازن، سکون اور فکری نرمی کا احساس ہوتا ہے۔ کہیں وہ کیفیت ہے جو شاعر کے اس مصرعے کو یاد دلاتی ہے:


’’اے مصور! تیری تصویر ادھوری ہے ابھی۔‘‘


کہیں رنگوں کی سنجیدگی گمبھیرتا کا تاثر دیتی ہے، تو کہیں شوخ رنگ ایک زندہ تخلیق کے لمس سے آشنا کرتے ہیں۔


گھر کے اندرونی نظم میں ضروریاتِ زندگی کی تقسیم، یعنی کہاں فراوانی ہو اور کہاں اختصار، سب کچھ ایک گہری سوچ اور شخصی وجدان کا عکس ہے۔ یہ توازن بیک وقت سوچا سمجھا بھی ہے اور بے ساختہ طور پر شخصی تجربے سے جنم لینے والا اظہار بھی۔


درحقیقت، اس گھر کو اس کے معمار کی شخصیت کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں۔


جو لوگ اعجاز ملک کو جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ اپنے اندازِ زیست میں ظاہری نمائش یا تصنع کے قائل نہیں۔ ان کی شخصیت میں وقار، سنجیدگی، خاموشی اور سادگی کی آمیزش ہے، جبکہ ان کا باطن مطالعے، مکالمے اور زندگی کے رنگین ابعاد سے مانوس ایک فکری تہذیب رکھتا ہے۔


میں اکثر محفلوں میں فلم ’’آندھی‘‘ کا وہ جملہ یاد کرتا ہوں، جسے یہاں دہرانا بے محل نہیں لگتا:


’’یہ جو پھولوں کی بیلیں نظر آ رہی ہیں، یہ پھولوں کی بیلیں نہیں، عربی میں لکھی آیتیں ہیں۔۔۔ انہیں کبھی دن میں دیکھنا۔‘‘


اعجاز ملک کا یہ گھر بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ بظاہر ایک سادہ بیرونی ڈھانچہ، اندر سے روشنی اور ملگجے اندھیرے پر مشتمل۔۔۔ مگر دراصل ایک فکری اظہار کا بہترین امتزاج۔


اسے دیکھنے کے لیے صرف آنکھ نہیں، بصیرت درکار ہے۔


یہ گھر انہیں جانے بغیر دیکھا تو جا سکتا ہے، مگر مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکتا۔


شاہد حسین


11 اپریل 2026ء


Ejaz Malik:


سامعینِ کرام، السلام علیکم!


میں نے کنکھجورا ہاؤس، جو KK House کے نام سے بھی معروف ہے، کی کچھ مزید تصاویر اور خاکے شیئر کیے ہیں۔ ان میں چند ڈرائنگز اور ماڈل کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ آپ اس کے نقشوں میں دیکھیں گے کہ گھر کا مرکزی ڈھانچہ بالکل ایک سنٹی پیڈ (گجھیر) کی طرح حرکت کرتا ہے اور اس کے ستون اس کے پاؤں کی مانند نظر آتے ہیں۔ اسی طرح اس کی اندرونی فضا میں یہ خاصیت محسوس ہوتی ہے کہ گویا اس کا کوئی حصہ، یا خود فضا ہی، سورج کی روشنی کے ساتھ ایک نقطے سے دوسرے نقطے تک سفر کر رہی ہے۔


دن کے مختلف حصوں میں اس کا مشاہدہ کیا جائے تو ماحول بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔ میں نے جو تصاویر شیئر کی ہیں، وہ صبح سات بجے کی ہیں، جب روشنی مشرق سے آ رہی ہوتی ہے۔ میں کچھ اور تصاویر بھی شیئر کروں گا جن میں غروبِ آفتاب کے وقت کا منظر اس کے برعکس نظر آئے گا۔


اصل بات یہ ہے کہ اس گھر کو سمجھنے کے لیے، چونکہ اس کا تعلق بنیادی طور پر اس بات سے ہے کہ روشنی کیا ہے، انسانی رویہ کیا ہے اور ہماری سماجی و مکانی عادات کیسی ہیں، آپ اس کی پوری گہرائی اسی وقت محسوس کر سکتے ہیں جب یہاں ایک پورا دن گزاریں۔


گروپ کے کسی رکن نے غالباً یہ بھی پوچھا تھا کہ یہ گھر کہاں واقع ہے۔ یہ لاہور میں رائیونڈ روڈ پر، جاتی عمرہ، جہاں شریف خاندان کے اراکین رہائش پذیر ہیں، کی طرف جاتے ہوئے، رائیونڈ روڈ سے مڑتے ہی تقریباً آدھے منٹ کے فاصلے پر دائیں جانب بیکن ہاؤس ہاؤسنگ اسٹیٹ میں واقع ہے۔ میں وہیں رہائش پذیر ہوں اور میرے گھر کا نمبر 28-D ہے۔


پاکستان میں مقیم جو احباب بھی اسے دیکھنا چاہیں، وہ بڑی خوشی سے تشریف لا سکتے ہیں۔ بس مجھے پیشگی مطلع فرما دیں تاکہ آپ اس سے بھرپور لطف اندوز ہو سکیں۔


اس گھر کی تقریباً ڈیڑھ سو ڈرائنگز موجود ہیں، جو تعمیر سے پہلے تمام تفصیلات کے ساتھ تیار کی گئی تھیں۔ اس میں کہیں بھی ماربل یا گرینائٹ استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی مہنگا مواد استعمال ہوا ہے۔ فرش رنگین سیمنٹ کے بنے ہیں، جو ایک پرانی تکنیک ہے، جبکہ دیواروں پر چونے کا پلستر کیا گیا ہے۔ اس میں روایتی معنوں میں سیمنٹ یا پینٹ استعمال نہیں کیا گیا، بلکہ رنگ کو براہِ راست چونے میں ملا کر لگایا گیا ہے۔ اس طرح پینٹنگ وغیرہ کے اخراجات کی بچت ہو جاتی ہے۔ جب پلستر مکمل ہو جاتا ہے تو لوہے کی گرم کھرپی سے فنشنگ اور رنگ، دونوں کا کام بیک وقت مکمل ہو جاتا ہے۔


یہ تمام چیزیں محض سننے یا بظاہر دیکھنے سے محسوس نہیں ہوتیں، بلکہ جب آپ جسمانی طور پر وہاں موجود ہوں، تبھی ان کا اصل تجربہ ہوتا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ پوری رہائش گاہ یا گھر ایک مجسمے کی مانند ہے، مگر اس میں ہمارے رہنے کا انداز، ہماری مکانی وابستگی، مواد اور اس کی تاریخی حیثیت، یہ سب ہمارے اپنے ہیں۔ اگرچہ اس میں ایک تضاد بھی موجود ہے، جیسا کہ شاہد صاحب نے شاید ذکر کیا ہو، کہ باہر سے اس کا تاثر کچھ اور ہے اور اندر سے کچھ اور؛ لیکن یہ تضاد بھی اس کی خوبصورتی کا حصہ ہے۔


ڈاکٹر گلزار حیدر ہمارے بیکن ہاؤس اسکول، یعنی راضیہ حسن اسکول آف آرکیٹیکچر، کے بانیوں میں سے ہیں اور میں بھی اس ٹیم کا حصہ رہا ہوں۔ گلزار حیدر صاحب نے اس ادارے کو قائم کرنے کے لیے بیس سال تک یہاں خدمات انجام دیں۔ راضیہ حسن اسکول آف آرکیٹیکچر پاکستان کا ایک سرکردہ تعلیمی ادارہ بن گیا تھا اور آج بھی ہم اسے بحال رکھے ہوئے ہیں، اگرچہ گلزار صاحب اب واپس کینیڈا جا چکے ہیں۔


گلزار صاحب کی کچھ باتیں میری ایک ڈرائنگ کے ساتھ جڑی ہوئی تھیں، جو KK House کے اگواڑے سے متعلق ہے۔ میں نے وہ ڈرائنگ شیئر کر دی ہے۔ انہوں نے اس کام اور میرے مشاہدات پر کھل کر روشنی ڈالی ہے۔ آپ اسے دیکھیے گا اور اپنی رائے ضرور ارسال کیجیے گا۔


نقش صاحب خاص طور پر کہہ رہے تھے کہ وہ اس گھر کے کیپشن سے کافی متاثر ہوئے ہیں۔ اب انہیں بھی یہ بات بخوبی سمجھ آ جائے گی۔ آئیے، اس سلسلے کو یونہی جاری رکھیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ! شاہد صاحب، آپ کا بھی بہت شکریہ کہ آپ نے اس پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔


شاہد صاحب، کنکھجورا ہاؤس پر مضمون لکھنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ امید ہے کہ میری شیئر کردہ اضافی تصاویر نے بھی KK House کو مزید سمجھنے میں کچھ مدد دی ہوگی۔ آپ کی تحریر زیادہ جامع ہے اور اس جگہ کی اصل روح پر مزید روشنی ڈالتی ہے۔


ایک بار پھر شکریہ، شاہد صاحب!


Shahid Hussain:


اعجاز ملک صاحب، آپ کا خیر مقدم ہے۔


میں ایک خیال آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔ چونکہ آپ بیک وقت مصور، مجسمہ ساز اور ماہرِ تعمیرات ہیں اور ان تینوں جہتوں کو گہرائی سے سمجھتے ہیں، اس لیے آپ کی رائے میرے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔


میرا مشاہدہ یہ ہے کہ بلاشبہ پینٹنگ اور مجسمہ سازی انسانی اظہار، احساس اور فکر کی نہایت اعلیٰ صورتیں ہیں۔ یہ ہمیں معنی اور جمالیات کی بلند سطحوں تک لے جاتی ہیں۔


لیکن اگر ہم انسانی زندگی کو اس کی بنیادی سطح پر دیکھیں تو فنِ تعمیر اور اندرونی آرائش و زیبائش محض اظہار نہیں، بلکہ انسانی ضرورت سے جنم لینے والے علوم ہیں۔ یہ وہ شعبے ہیں جو انسان کے لیے مکانی فضا متعین کرتے ہیں، اسے قابلِ رہائش بناتے ہیں اور زندگی کے روزمرہ تجربے کو ایک منظم ترتیب دیتے ہیں۔


ذاتی طور پر، جب میں آرائشی مجسمہ سازی پر کام کرتا ہوں تو مجھے بارہا یہ احساس ہوتا ہے کہ میرا کام اپنی مکمل معنویت اسی وقت حاصل کرتا ہے جب وہ کسی تعمیراتی تناظر کا حصہ بنتا ہے؛ یعنی جب وہ کسی دیوار، محراب یا داخلی فضا کے ساتھ جڑ کر ایک بڑے مکانی بیانیے میں شامل ہو جاتا ہے۔


یوں محسوس ہوتا ہے کہ فنِ تعمیر ایک طرح کا بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتا ہے، جس کے اندر دیگر فنون، مثلاً پینٹنگ اور مجسمہ سازی، اپنی مکمل معنویت کے ساتھ ظہور پذیر ہوتے ہیں۔


دوسرے لفظوں میں، اگر فنونِ لطیفہ انسانی شعور کا اظہار ہیں تو فنِ تعمیر اسی شعور کے جینے کا ماحول تخلیق کرتا ہے۔


اسی تناظر میں میرا خیال ہے کہ اگرچہ ہر فن اپنی جگہ اہم ہے، مگر فنِ تعمیر کو سمجھنا اور اس کی بنیادی آگاہی حاصل کرنا ایک عام انسان کے لیے بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ یہی وہ علم ہے جو براہِ راست ہمارے رہن سہن اور روزمرہ زندگی کے معیار کو متاثر کرتا ہے۔


ہمارے خطے میں شاید اسے وہ توجہ نہیں دی گئی جس کا یہ مستحق ہے۔


میں اس زاویے پر آپ اور دیگر دوستوں کی رائے سننے میں واقعی دلچسپی رکھتا ہوں۔


شاہد حسین


15 اپریل 2026ء


Ejaz Malik:


السلام علیکم، شاہد صاحب!


یہ بڑی اہم بات ہے جو آپ نے کہی ہے کہ مجسمہ سازی، خاص طور پر، اور پینٹنگ وغیرہ کو اپنے وجود کے لیے، اپنی بقا کے لیے نہیں بلکہ اپنی موجودگی اور اظہار کے لیے، کہیں نہ کہیں جگہ درکار ہوتی ہے۔ پینٹنگ کو بھی کسی جگہ آویزاں ہو کر لوگوں کی نگاہوں کے سامنے آنا ہوتا ہے۔ اسے سب سے بڑی مدد فنِ تعمیر اور اندرونی فضا ہی فراہم کرتی ہے۔


لیکن اندرونی فضا یا فنِ تعمیر محض کسی دیوار کا نام نہیں۔ بہت سی چیزیں مل کر ایک فضا تشکیل دیتی ہیں، جن میں روشنی، گہرائی، چوڑائی، بلندی اور رنگ شامل ہیں۔ اس فضا کے اپنے معنی بھی ہوتے ہیں۔


جس طرح ہم کوئی نظم یا موسیقی ترتیب دیتے ہیں تو اس میں ایک خاص بات محفوظ کی جاتی ہے، اسی طرح ہر تخلیق کسی نہ کسی چیز کا اظہار ہوتی ہے۔ تخلیق کار کچھ نہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔ چنانچہ جب مجسمہ سازی اپنی تکمیل کو پہنچتی ہے تو اسے اپنے اظہار کے لیے ایک تعمیراتی فضا درکار ہوتی ہے، جس میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔


اسے ایک پس منظر ملتا ہے، ایک سیاق و سباق ملتا ہے اور اپنے معنی کو پوری طرح ظاہر کرنے کے لیے وہ وسعت ملتی ہے جو فنِ تعمیر فراہم کرتا ہے۔


یہ تو ہوا کہ فنِ تعمیر کا فضا، سطح، رنگ، روشنی، گہرائی اور اپنے سیاق و سباق سے کیا تعلق ہے۔ لیکن فنِ تعمیر کی ایک اور بڑی خاص اور اہم بات یہ ہے کہ وہ ان چیزوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے، یا یوں کہیے کہ ان چیزوں سے تشکیل پاتا ہے جن کا تعلق انسان کے گہرے یقین، شناخت اور علم سے ہوتا ہے۔ انسان جن چیزوں پر پختہ یقین رکھتا ہے، فنِ تعمیر انہیں اپنے اندر سمو کر اپنی شکل بناتا ہے۔


اب آپ اس بات پر غور کریں کہ کسی قوم، برادری یا فرد کا جو تصورِ مثالی ہوتا ہے، جب وہ سہ جہتی شکل اختیار کرتا ہے تو اسے ہم فنِ تعمیر کہتے ہیں۔


مثال کے طور پر، اگر کسی قوم کو مالی معاملات کی سمجھ نہ ہو، اسے اپنی تاریخ کا علم نہ ہو، سائنس میں دلچسپی نہ ہو، وہ سوال نہ اٹھاتی ہو، کسی بات کی پروا نہ کرتی ہو اور سوچنے کے بجائے محض تابع فرمان رہتی ہو، تو اس قوم کا فنِ تعمیر بھی بے سمت اور بے معنی ہوگا۔ اس کا کوئی واضح سر پیر دکھائی نہیں دے گا۔


لیکن ایک ایسی قوم جو سوال بھی کرتی ہے، شک بھی کرتی ہے اور ہر چیز کو تنقیدی نگاہ سے دیکھتی ہے، اس کا تصورِ مثالی یہ ہوتا ہے کہ ہر چیز کو پرکھا جائے، اس کی تہیں کھولی جائیں اور اس کے اندر چھپی حقیقت کو جانا جائے۔ پھر جو فنِ تعمیر وجود میں آتا ہے، وہ اس سوچ کی سہ جہتی شکل ہوتا ہے۔ بلکہ اس میں ایک چوتھی جہت بھی شامل ہو جاتی ہے: یادداشت۔


فنِ تعمیر ہماری یادوں کو محفوظ کرتا ہے اور کسی فضا میں گزرے ہوئے تجربے کو ہمارے اندر، ہماری روح، احساسات اور حواس میں اس طرح بٹھا دیتا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ہماری یادداشت کا حصہ بن جاتا ہے۔


یہ فنِ تعمیر کی بہت بڑی قوت ہے۔ ہمارے پانچ حواس تو مشہور ہیں، لیکن ایک چھٹی جہت بھی ہے جسے ہم انسانی تجربے کی چوتھی جہت کہہ سکتے ہیں، جس میں مکان اور وقت شامل ہو جاتے ہیں۔


یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب زندگی، فلسفے اور انسانی وجود کے بارے میں ہمارے اپنے تصورات اور یقین اس میں شامل ہوں۔


انسانی وجود کی مختلف سطحیں ہیں: ایک ہے زندہ رہنا، دوسری ہے بقا کے لیے جدوجہد کرنا، اور تیسری ہے ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارنا۔


ایک ایسی کامل صورت بھی ممکن ہے جس میں انسان کو کسی چیز سے خوف محسوس نہ ہو۔ کائنات، یہ وسیع عالم، نامعلوم کہکشائیں اور وہ چھوٹی سی کٹیا جس میں انسان رہتا ہے، سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے محسوس ہوں۔ جب ہم ہم آہنگی کو گہرائی میں دیکھتے ہیں تو کائنات کے ساتھ یکجہتی کا احساس پیدا ہوتا ہے؛ تصادم کی کیفیت باقی نہیں رہتی۔


فنِ تعمیر کا سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ آج آپ جو سوچ رہے ہیں، وہی آپ کا شہر اور آپ کا گھر بن جاتا ہے۔


اگر آپ کی سوچ میں خامیاں ہیں، بے ایمانی یا الجھن ہے، منافقت ہے یا نیت میں بدنیتی ہے، تو فنِ تعمیر ان سب کو آپ کی رہائش گاہ سے لے کر آپ کے شہر، اس کی گلیوں اور آپ کے ملک تک، ہر سطح پر ظاہر کر دیتا ہے۔


اس کی بہترین مثال آپ آج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے شہر آج سے سو سال پہلے کیسے تھے؟ نوآبادیاتی دور میں ان کی شکل کیا تھی؟ اور اس سے پہلے آنے والے لوگوں کے اثرات سے وہ کس طرح تشکیل پاتے رہے؟


پاکستان بظاہر ایک آزاد ملک ہے، لیکن اس کے اندر کیا ہو رہا ہے؟ لوگوں کے ذہنوں میں کیا ہے؟ وہ کیا سمجھتے ہیں؟ اگر آپ ان باتوں کو سامنے رکھ کر کسی شہر کا خود تجربہ کریں تو آپ کو اس شہر کو دیکھ کر لوگوں کی ذہنیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں، وہ ایک بات ہے، لیکن جس چیز پر حقیقتاً عمل کرتے ہیں، وہ اس سے مختلف ہو سکتی ہے۔


شہر دراصل ان عقائد اور تصورات کا نتیجہ ہوتے ہیں جن پر لوگ عملاً عمل کرتے ہیں، جو ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔


پاکستان میں اچھا فنِ تعمیر کیوں پیدا نہیں ہو رہا؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہماری سوچ میں کچھ بنیادی خرابیاں موجود ہیں۔ جب وہ خرابیاں تعمیراتی فضا میں داخل ہوتی ہیں تو فنِ تعمیر کی روح نکل جاتی ہے۔ وہ ایک ایسی بے جان چیز بن جاتا ہے جیسے کسی جسم سے روح نکل جائے اور اس میں کوئی جان باقی نہ رہے۔


مختصراً، آپ کی یہ بات بہت وزن رکھتی ہے کہ فنِ تعمیر مجسمہ سازی، پینٹنگ اور دوسری فنّی اشیا کے لیے ایک وسیع اور بامعنی فضا فراہم کرتا ہے۔ اس فضا میں یہ فنون بہتر طور پر اپنا وجود ظاہر کر سکتے ہیں۔


فنکار یا تخلیق کار کی سوچ مجسمے کی شکل اختیار کرتی ہے، اور فنِ تعمیر اس مجسمے کو اس کے اظہار کے لیے جگہ فراہم کرتا ہے۔ یوں فنِ تعمیر دراصل فنکار کی تخلیق کے لیے ایک مناسب مقام اور ماحول مہیا کرتا ہے۔


تعمیراتی فضا کے اپنے لوازمات ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہوں تو ان میں مواد، بناوٹ، رنگ، گہرائی، چوڑائی اور بلندی شامل ہیں۔ لیکن ان سب میں سب سے اہم چیز روشنی ہے۔


روشنی ایسی چیز ہے جسے آپ اپنے ہاتھ میں نہیں پکڑ سکتے۔ وہ ایک پھسلتی ہوئی، مسلسل بدلتی ہوئی کیفیت ہے۔ لیکن اگر آپ اپنی فضا اور اس کے حجم میں روشنی کے وجود کو درست طور پر برت لیں تو فنِ تعمیر روایتی اور محض رسمی تعمیر سے آگے بڑھ کر بامعنی بن جاتا ہے، کیونکہ آپ روشنی کے ذریعے کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ روشنی خیالات اور اشیا کے جوہر کی علامت بنتی ہے، یا یوں کہیے کہ علم کا اظہار کرتی ہے۔


اس طرح کی بہت سی باتیں ہیں جن پر گھنٹوں گفتگو ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ فنِ تعمیر ایک ایسی چیز ہے جو خاموشی سے آپ کی سوچ آپ کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ وہ بولتا نہیں، مگر آپ کو آپ کی اپنی فکر دکھا دیتا ہے۔


اگر آپ کی سوچ درست نہیں تو ممکن ہے وہ آپ کو محبت سے متوجہ کرے، لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ پیار سے تھپڑ مار دے، اور کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کے منہ پر ایک زوردار مکا پڑا ہو اور کوئی کہہ رہا ہو کہ براہِ کرم، ذرا سوچ سمجھ کر کام کیجیے، کیونکہ آپ نے اتنا مواد، اتنی رقم اور اتنی جگہ ضائع کر دی ہے۔


میرے خیال میں آج کی مختصر گفتگو یہیں ختم کرتے ہیں۔ میں باقی لوگوں کو بھی دعوت دوں گا کہ وہ اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کریں۔ شاہد صاحب نے اپنے مضمون میں بھی یہی خواہش ظاہر کی ہے کہ اگر کچھ لوگ اس پر بات کرنا چاہیں تو بہت اچھا ہوگا۔


اسی خواہش کے ساتھ میں آپ سب کو خدا حافظ کہتا ہوں۔ باقی دوست سنیں، اپنے اپنے خیالات کا اظہار کریں، تاکہ ہم مل کر ان باتوں کو مزید واضح کر سکیں اور ایک ایک اہم نکتے کی بہتر تعریف متعین کر سکیں۔


آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔ خدا حافظ!


مکالمہ اختتام: 15 اپریل 2026ء۔

No comments: