Monday, October 12, 2026

ساز و حساب

 "تعلق میں حساب کتاب محبت کے خاتمے کی علامت ہے، اس لیے عقل کا تقاضا ہے کہ راستہ بدل لیا جائے۔"

ایک فیس بک کے فلسفی دوست کا فرمان۔


ہو سکتا ہے یہ ان کے تجربے یا مشاہدے کا نچوڑ ہو۔ لیکن میں نے زندگی میں یہ دیکھا ہے کہ محبت میں حساب کا عدم توازن ہی دراصل محبت میں کمی اور بالآخر تعلق ٹوٹنے کا سبب بنتا ہے۔


کیونکہ یہاں حساب سے مراد صرف مالی لین دین نہیں۔ یہ تو ہمارے جذبات و احساسات کا تبادلہ ہے، جسے یکطرفہ یا کسی ایک کی ذمہ داری پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔


یہ معاملہ ایک سمفنی، ایک آرکسٹرا کی طرح ہے۔ اس میں کئی وائلن مل کر ایک مسلسل دھن بناتے ہیں، کہیں سیکسو فون کو ایک خاص لمحے پر اپنا کردار نبھانا ہوتا ہے، بڑا ڈرم جذبات کی دھڑکن بنتا ہے اور کہیں پیتل کی دو پلیٹیں ٹکرا کر جھماکے سے جوش یا کچھ ٹوٹنے کی فضا پیدا کرتی ہیں۔ اس سب کو لمحوں اور عددوں میں نہیں ماپا جا سکتا۔


مگر اتنا ضرور ہے کہ آپ اس ساز کی تعریف ان بجتے ہوئے سازوں کے برابر نہیں کر سکتے جو سرے سے بجا ہی نہ ہو۔


اور یہ بات آپ اپنے فیس بکی فلسفی دوست کو اس کی وال پر نہیں سمجھا سکتے۔ وہ ناراض ہو جاتا ہے، اس کے دوست آپ کی ایسی تیسی کر دیتے ہیں۔ سو آپ اس خاموش ساز کی طرح راز چھپائے رہتے ہیں، جسے معلوم ہے کہ اس خاموشی پر بھی کہیں سے داد نہیں ملے گی۔


شاہد حسین

25 اگست 26

No comments: