Wednesday, September 30, 2026

دکھ کے دو راستے

 



Shahid Hussain 

29 Sep 26.

دو جینئیس، دو راستے: 


یہ مضمون آپ دوستوں سے شیئر کرنے سے پہلے ایک اعتراف ضروری ہے۔

دو شخصیات کے درمیان یہ موازنہ کسی سائنسی تحقیق کی طرح نہیں، بلکہ ایک ادبی استعارے کے انداز میں کیا گیا ہے، جس میں سب سے اہم مشترک عنصر انسانی دکھ ہے ۔

دکھ ایک مشترک موضوع، دو مختلف برتاؤ


اوشو بھگوان شری رجنیش (1931 تا 1990) اور ساغر صدیقی (1928 تا 1974)، دونوں کی زندگی کا مرکزی موضوع انسانی دکھ تھا۔ دونوں کو ان کے ماننے والوں نے جینئیس مانا، مگر دکھ کے ساتھ ان دونوں شخصیات کا برتاؤ یکسر مختلف تھا۔


رجنیش نے دکھ سے نجات کا فلسفہ دیا۔ ان کا پیغام تھا کہ انسان شعور اور خوشی کے ذریعے اپنے دکھوں سے آزاد ہو سکتا ہے۔ ان کی باتوں میں انسانی نفسیات، عقائد اور سماجی بندشوں پر گہری تنقید تھی، اور ان کے اقوال آج بھی پڑھے جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک غیر معمولی ذہن تھے۔


ساغر صدیقی نے دکھ سے نجات کا کوئی نسخہ نہیں دیا۔ انہوں نے دکھ کو جیا، اسے اپنی ذات پر محسوس کیا، اور اسے غزلوں میں ڈھال دیا۔ ان کی شاعری دکھ کا بے مثال اظہار ہے، اس لیے نہیں کہ انہوں نے دکھ کا "حل" بتایا، بلکہ اس لیے کہ انہوں نے اپنے ایسے دکھ کو سچ بولنے دیا جو کہیں نہ کہیں انسانوں کا مشترکہ ورثہ بھی ہے۔


اب یہاں ایک تضاد ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ رجنیش نے لوگوں کو ان کی کامیاب دنیاوی زندگیاں تیاگ کر روحانی آزادی کی طرف بلایا، مگر ان کی اپنی زندگی میں 90 سے زائد رولز رائس گاڑیاں، قیمتی گھڑیاں اور شاہانہ آسائشیں شامل تھیں۔ یہ دولت زیادہ تر ان کے مداحوں کے تحفوں سے آئی، یہ سچ ہے، مگر سوال پھر بھی رہتا ہے: جو دوسروں کو دنیاوی کامیابیاں چھوڑنے کی تلقین کرے، کیا اسے خود بھی اسی سادگی کی مثال نہیں بننا چاہیے؟


ہو سکتا ہے ان کے مداح کہیں کہ رجنیش کا درس فقیری کا تھا ہی نہیں، بلکہ شعوری زندگی کا تھا۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہو سکتی ہے، مگر پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ شعور کا یہ راستہ خود ان کے لیے آسائشوں سے ہو کر کیوں گزرا، اور ان کے پیروکاروں کے لیے قربانیوں سے؟


اور "بھگوان" کا لقب؟ رجنیش نے روایتی مذہب کا انکار کیا، مگر "بھگوان شری رجنیش" کا عنوان قبول کیا۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو ہے جس پر ان کے مداح بھی خاموش رہتے ہیں۔


دوسری طرف ساغر کی فقیری کو صرف "فلسفیانہ انتخاب" کہنا بھی پورا سچ نہیں۔ ان کی زندگی میں غربت، بیماری اور ذہنی و جسمانی ٹوٹ پھوٹ کا بھی کردار تھا۔ وہ لاہور کی گلیوں میں اس لیے بھی تھے کہ دنیا نے انہیں کہیں اور جگہ نہیں دی تھی۔ لیکن ان کی عظمت اس میں ہے کہ انہوں نے اس ٹوٹ پھوٹ کو شاعری میں بدل دیا، نہ کہ اس میں کہ انہوں نے جان بوجھ کر دکھ چنا تھا۔


ان دونوں اصحاب کی عمر کے حساب اور راستے کے انتخاب کو دیکھا جائے تو ساغر نے 46 برس پائے، رجنیش نے 58۔ ایک نے دکھ کو گلے لگایا، دوسرے نے دکھ سے نجات کا راستہ بتایا، لیکن زندگی کے دورانیے کا فرق بہت معمولی ہے۔ تو پھر خوشی کا راستہ اختیار کر کے طویل زندگی پانے میں فرق کہاں ہے؟


شاید فرق صرف اتنا ہے کہ ہم سب نے اپنی اپنی مرضی کا راستہ چننا ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم یہ راستہ ذہانت یا حماقت کی بنیاد پر چنیں، یا صحیح اور غلط کی بنیاد پر چنیں۔ بس ہمیں اپنے اپنے مزاج کے مطابق، جینئیس ہونے کے باوجود، کوئی ایک راستہ چننا ہوتا ہے۔


مجھے میرے دوست اکثر ماضی کا پجاری، یا یوں سمجھیے "ماضی کے مزار کا مجاور" کہتے ہیں۔ شاید یہ سچ ہے۔

مگر میں تو انہیں کبھی "حال کا اوتار" بننے پر قابلِ تنقید نہیں سمجھتا، گو کہ میں اس فرق کو اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ اوتار یاد رکھے جاتے ہیں، مجاور نہیں۔


ساغر صدیقی کو آج کم لوگ جانتے ہیں، رجنیش کو زیادہ۔ اس کی وجوہات بہت سی ہو سکتی ہیں: رجنیش انگریزی میں بولتے تھے، اور وہ باتیں بولتے تھے جو دنیا سننا چاہتی ہے۔ عالمی میڈیا تک ان کی رسائی تھی، ان کے پیچھے ایک منظم تحریک تھی۔ ساغر اردو کے شاعر تھے، ان کی دنیا لاہور کی گلیاں تھیں، ان کے پیچھے کوئی ادارہ نہیں تھا۔ ان کا موضوع سہنے والے تو بہت تھے، سننے والے کم تھے۔


تو شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اسے یاد رکھتے ہیں جو ہمیں نجات کا وعدہ دے، اور اسے بھول جاتے ہیں جو ہمیں دکھ سہنے کا سچ دکھائے۔ میں مزار کا مجاور سہی، مگر میں ان مزاروں پر چراغ جلاتا رہوں گا جہاں سچ دفن ہے، چاہے وہ سچ میرے لیے کتنا ہی اداس کیوں نہ ہو۔

لیکن اگر یہ دکھ اور اداسی میرے دوستوں کو کسی ٹوٹ پھوٹ سے دوچار کرتی ہے تو پھر میں ان کے لیے یہ گیت گا دوں گا ،

"تمہیں زندگی کے اجالے مبارک 

اندھیرے ہمیں آج راس آگئے ہیں"


شاہد حسین

29 ستمبر 2026

No comments: